تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/GAURI LANKESH Image caption گوری لنکیش ایک ہفت روزہ کی مدیر تھیں اور وہ بے خوف اور بے باک صحافیوں میں شمار ہوتی تھیں

انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ بائیں بازو کی ایک سرکردہ صحافی کو ملک کی جنوبی ریاست کے شہر بنگلور میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا ہے۔

صحافی گوری لنکیش 55 سال کی تھی اور وہ ہندو قوم پرست سیاست کی مخالف تھیں۔

ریاست کرناٹک کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بنگلور میں اپنے گھر کے باہر خون میں لت پت مردہ حالت میں ملی تھیں۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔

٭ قوم پرستی کے نام پر بڑھتا تشدد

٭ بھارت: بنیاد پرستی کے مخالف ماہرِ تعلیم کا قتل

اطلاعات کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سوار ان کے سینے اور سر پر گولی مار کر فرار ہو گئے۔

انڈیا میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ہندو قوم پرست نشانہ بنا رہے ہیں۔

گوری لنکیش ایک ہفت روزہ کی مدیر تھیں اور اُن کا شمار نڈر صحافیوں میں ہوتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ قاتل ان پر پہلے سے نظر رکھ رہے تھے

گذشتہ سال ایک مضمون شائع کرنے پر ان پر ہتک عزت کا دعوی کیا گیا تھا اور وہ مجرم قرار پائيں تھیں تاہم انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ وہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب اپنی گاڑی سے گھر واپس آئی تھیں اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہی ہو رہی تھیں کہ اُن پر فائرنگ کی گئی۔ ان کی جائے واقعہ پر ہی موت ہو گئی۔

حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ گولی مارنے والے ان کا پیچھا کرتے ہوئے اُن کے گھر تک آئے تھے۔ پولیس کو اس قتل کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

ملک کے مختلف حلقے اُن کے قتل کی مذمت کر رہے ہیں اور کرناٹک کے وزیر اعلی سدھارمیا نے اسے 'جمہوریت کے قتل' سے تعبیر کیا ہے۔

لنکیش کا تعلق ایک معروف خاندان سے تھا۔ وہ لنکیش پتریکے کی مدیر تھیں جسے ان کے والد پی لنکیش نے جاری کیا تھا۔ ان کے والد بائیں بازو کے نظریات کے حامل شاعر اور مصنف تھے۔ انعام یافتہ فلم ساز کویتا لنکیش ان کی بہن ہیں۔

ان کا قتل حالیہ برسوں میں بے باک سیکولر اور عقل پرست دانشوروں کے قتل کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل معروف سکالر ایم کلبرگی، توہم پرستی کے خلاف سرگرم کارکن نریندر دابھولکر اور سیاست دان گووند پانسرے کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

معروف مصنف مارولاسیڈپّا نے بی بی سی کو بتایا: واضح طور پر مخصوص مصنفوں پر حملے کیے جا رہے ہیں کیونکہ وہ رائے عامہ کو تبدیل کرتے ہیں۔ جس طرح قاتل موٹر سائئکل پر آتے ہیں، قتل کرتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں ان میں ایک ترتیب ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ facebook

گوری لنکیش کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ انھیں سیاسی نظریات کی مخالفت کی بنا پر مارا گیا ہے۔